Passage 20

توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ لوگ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے تنگ آگئے ہیں۔ ہماری سماجی و معاشی زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔ صنعت کاری کا عمل رک گیا ہے اور لا تعداد کاریگر بے روز گار ہو گئے ہیں۔ ہمیں سینکڑوں کی تعداد میں ایٹمی ری ایکٹر لگانا ہوں گے۔ ماضی کی حکومتوں نے قومی مال کی لوٹ کھسوٹ کے سوا کچھ نہیں کیا اور ہمارے موجودہ حکمران بھی غیر سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ جب تک جاگیردارانہ نظام ختم نہیں ہوگا اور ہم اپنے ملکی فیصلے خود نہ کریں گے، یہ مسائل بڑھتے ہی جائیں گے۔

The energy crisis has become more intense. People are sick of the load shedding of power and gas. Our social and economic life has been paralyzed. Industrialization has come to a halt and countless workers have lost their jobs. We will have to build hundreds of nuclear reactors. Our previous governments did nothing more than plundering the national exchequer. Our present rulers do not seem serious, either. Unless we abolish feudalism and decide our national issues independently, these problems will continue to grow. 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *