Passage 22

بچپن عمر کا بہترین حصہ ہے۔ اس لیے آپ نےاکثر بڑے بوڑھوں سے سنا ہو گاکہ کاش وہ پھر ایک دفعہ بچے بن جائیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جوانی اور بڑھاپے کی ذمہ داریوں سے گھبراتے ہیں۔ بچپن میں کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی اسی وجہ سے کوئی بھی غم نہیں ہوتا۔ بچہ دن بھر کھیلتا ہے۔ اس کے والدین اس سے محبت کرتے ہیں اور اچھا کھلاتے ہیں۔ عمدہ لباس خرید کر دیتے ہیں۔ اگر بچے کو قیمتی کپڑے اور کھلونے نہ بھی ملیں تو وہ ان کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس کے لیے زندگی از خود ایک کھلونا ہے۔ وہ ہر چیز میں یک نیا پن پاتا ہے۔ لیکن جب بچہ جوانی میں قدم رکھتا ہے تو چیزوں کا نیا پن ختم ہو جاتا ہے۔

Childhood is the best part of one’s life. Therefore, you might have often heard the elderly wishing to become children again. Perhaps, this is because we shirk the responsibilities of youth and old age. There is no responsibility in childhood. That is why there is no sorrow in life. A child plays all day. His parents love him, feed him, and clothe him well. Even if a child does not have expensive clothes and toys, he does not care for them. To him, life itself is a toy. He finds newness in everything. But when a child enters adulthood, the novelty of things disappears.   

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *